دافغانستان اسلامي امارت
تازه لیکنې

بمباریوں اوروحشت میں اضافہ کیوں ؟

ماہنامہ شریعت کا اداریہ

کوئی دس ماہ پہلے امارت اسلامیہ افغانستان اورامریکہ کے درمیان قطرکے درالخلافہ دوحہ میں افغان جنگ  روکنے کے حوالہ سے ہونے والا معاہدہ یقینا ایک بڑی پیش رفت تھی ۔

کئے گئے معاہدے کے پیش نظر قابض فوجیوں کی روانگی کاسلسلہ ،ان کے ناپاک وجودسے ان کے بڑے بڑے اڈوں کا خالی ہونا ،پانچ ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی ،دوحہ ہی میں بین الافغانی  مذاکرات کا آغازاوران مذاکرات کے لئے دوحہ معاہدے کو ہی بنیاد بنانا اہم باتیں تھیں  جوعملی ہوئیں ۔

یہ بات پوری دنیا کے علم میں ہے کہ کابل کےکٹھ پتلی ادارہ اس معاہدہ اوراس میں موجود تمام شقوں کی سخت مخالف اوراس کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی بھر پور کوششیں کی تھیں ۔لیکن امریکہ کی جانب دباو بڑھ جانے پر بادل ناخواستہ ماننے کو تیارہوا ،اب بین الافغانی مذاکرا ت کا دوسرادور شروع ہواہے جس کے ساتھ افغان مسائل کاحل اوریہاں ایک سچےاسلامی نظام کے قیام  کے لئے عوام پرامیدہوگئے ہیں ۔

ہم مانتے ہیں کہ کابل ادارہ ایک با ت بھی ماننے کو تیارنہیں تھا ،جو کچھ بھی ماناہے وہ امریکہ کی طرف سے ڈالی جانے والی دباؤ کے نتیجے میں ماناہے ۔جو امریکہ کی  دوحہ میں ہونے والےتاریخی معاہدہ کی پاسداری کی نشانی ہے ۔

لیکن اس معاہدے کی ایک اہم شق امریکہ اوردیگر قابضین کی جانب سےبمباری اور گھروں پر چھاپوں  اور دیگرکارروائیوں کی بندش تھی ،جس کے بدلے میں امارت اسلامیہ نے بھی بیرونی افواج کو امن وسلامتی کے ساتھ افغانستان سے چلے جانے کی یقین دہانی کرائی تھی ۔

امارت اسلامیہ نے اپنی طرف سے معاہدہ میں طے کئے گئے تمام شرائط  پرکاربندرہ کر اپنی ذمہ داری کا ثبوت دیاہے اورگزشتہ دس ماہ میں کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیاجسے امارت اسلامیہ کی جانب سے مخالفت  پر محمول کیا جائے ۔جس کا اعتراف گزشتہ دنوں امریکہ کے وزیر خارجہ مائک پمپیونے بھی کیاہے ۔

دنیا خوب جانتی ہے کہ نہ امارت اسلامیہ جنگ سے اکتاگئی ہے اورنہ ہی دشمن طاقت وربن گیا ہے بلکہ دشمن کو اب یہ لڑائی بھاری پڑنے لگی ہے، وہ اکتایا ہوا اورمورال باختہ ہوچکاہے جبکہ امارت اسلامیہ پہلے کی نسبت مضبوط ہوگئی ہے لیکن پھر بھی معاہدہ کی پاسداری کی ہرممکن کوشش کررہاہے اورمعاہدہ میں طے کی گئی شرائط پر عمل پیراہونا اپنی دینی ذمہ داری سمجھتی ہے ۔

لیکن افسوس  کہ مقابل جانب  نے گزشہ دنوں کئی بار ایسی کارروائیاں کی  ہیں گویا کہ وہ قصدا وعمدا  اس معاہدہ کو ختم کرناچاہتے ہیں ۔پوری قوم شاہد ہے کہ ملک کے مختلف اطراف وجوانب میں امریکی فوجیوں اور ان کے کٹھ پتلیوں کی جانب سے بمباریوں میں شدت آگئی ہے ۔انہی بمباریوں میں کئی مقامات پر  ایک گھر کے تمام افراد شہید ہوچکے ہیں ۔

شہریوں کے خلاف وحشت  کایہ سلسلہ دوحہ معاہدہ کے لئے خطرناک ہے ۔وحشت کا یہ سلسلہ  افغانستان کے مسائل کے لئے کی گئی پیش رفت کے لئے نقصان دہ ہے اورقوم میں ناامیدی کی فضاقائم کررہاہے  جواس قوم کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے ۔

افغانوں پر مسلط کئے گئے اس بیس سالہ طویل جنگ  میں امریکی فوجیوں اور ان کے کٹھ پتلیوں کی جانب سے مظلوم افغان قوم پر ہونے والے مظالم سے پوری دنیا واقف ہے ۔حالات دنیا کے سامنے ہیں،ساری دنیا جانتی ہے  کہ مظلوم افغان عوام  کے خلاف بڑی زورآزمائی کی گئی ہے لیکن ہر تجربہ ناکام رہاہے جس کا اعتراف بیرونی افواج نے بھی کیاہے ۔

ظلم اورزیادتی کی ناکامی کو دیکھتے ہوئے امریکہ نے تسلیم کرلیا کہ افغانستان کے مسئلہ کو بات چیت کے ذریعے ہی حل کرناچاہئے اورپھر وہی ہوا کہ امریکہ امارت اسلامیہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لئے تیارہوا اور طویل مذاکرات کے بعد دوحہ معاہدہ سامنے آیا۔

اب جبکہ امریکی قابضین اورکٹھ پتلیوں نے ایک بار پھر عام شہریوں پر بمباریوں اورحملوں کا سلسلہ شروع کردیاہے تو ایسے لگتاہے جیسے امریکہ نے اپنے ناکام تجربوں سے کچھ سبق حاصل نہیں کیاہے ۔

کابل ادارے کے سربراہان ،چندبڑے امریکی عسکری اہلکار اور اسلحہ کے سوداگروں کو اپنے مفادات جنگ کی دوام میں ہی دکھائی دیتے ہیں اس لئے وہ اس معاہدہ کو سبوتاژ کرنے کی مکمل کوششیں کررہے ہیں اوریہاں جنگ کی دوام چاہتے ہیں ۔ طبعی امرہے کہ یہ لوگ  نئی حکومت  کو بہلانے اور انہیں جنگ کو طول دینے پر امادہ کرنے کی کوشش  کریں گے لیکن امریکہ کی نئی سیاسی قیادت کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے  افغان مسلمان قوم کو اپنے ملک کی آزادی بھت عزیز اوراہم ہے وہ کسی بھی حال میں آزادی کے حصول سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ۔اورنہ ہی آزادی کے حصول کے لئے لڑائی سے تھکنے والے ہیں ۔

یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ امارت اسلامیہڈ سیاسی اورعسکری طورپر پہلے سے زیادہ مضبوط ہے  لیکن اس کے باوجود امارت اسلامیہ اپنی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے جب تک ہوسکے گا اپنے وعدوں کی پاسداری کرے گی ۔

امارت اسلامیہ دوحہ میں کئے گئے معاہد ہ کو اپنے ملک وقوم کے لئے بہترسمجھتی ہے اس لئے حتی الوسع اس کو ٹوٹنے نہیں دے گی اورجانب مقابل کی بعض غلطیوں پر چشم پوشی بھی کرے گی جو امارت اسلامیہ کی کمزوری نہیں بلکہ اپنے اوپر اعتماد اورقوم کی امیدوں اور ملک کے اعلیٰ اہداف کو مقدم رکھنے کی دلیل ہے ۔

دوحہ معاہدہ پر عمل کرنا جس طرح ہمارے لئے اہم ہے بالکل اسی طرح امریکہ کے لئے بھی ہے، اس لئے چاہئے کہ اس حساس موضوع پر ذمہ داری دکھائی جائے ۔دشمن کومزید ہماری قوم کی امیدوں سے نہیں کھیلناچاہئے اورنہ ہی اپنی فوج اورمال کو ضائع کرنا ۔جنگ کو طول دینا ان کو سوائے ناکامی ،ذلت اورشکست کے کچھ بھی فائدہ نہیں دے سکتا ۔

اړوند نور مطالب او مجلې

پدیدهٔ زشت دشنام و بدزبانی

Habibullah Helal

انٹر سیپٹ کی رپورٹ: C.I.A کے ڈیتھ سکواڈکے وحشتوں کی کہانی

Habibullah Helal

په ملکي تأسیساتو کې سنګرونه د چا دي…!؟

Habibullah Helal