دافغانستان اسلامي امارت
تازه لیکنې

انٹر سیپٹ کی رپورٹ: C.I.A کے ڈیتھ سکواڈکے وحشتوں کی کہانی

تلخیص وترجمہ: عاطف

انٹرسیپٹ ایک آن لائن میڈیا ویب سائٹ ہے جس نے 18 دسمبر 2020ء کو افغانستان میں C.I.A کے افغان ملیشیاء کی وحشتوں کے بارے میں ایک مسنتند اور تحقیقی رپورٹ نشر کی ہے۔ رپورٹ میں زیادہ تر صوبہ میدان وردگ کے ضلع نرخ کے کلی عمر خیل میں  معصوم بچوں کے ایک مدرسے    پر دسمبر 2018ء  کے ایک  وحشیانہ چھاپے کو موضوع بحث بنا یا گیا ہے  جو C.I.A کے تشکیل کردہ افغان ملیشیاء  زیرو ۔ون بریگیڈ[صفر۔یک] کی جانب سے مارا گیا تھا جس کے نتیجے میں 12 کمسن طلباء شہید ہوئے تھے۔

یہ رپورٹ میدان وردگ کے 50 سے زیادہ لوگوں کے انٹرویوز  کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ان لوگوں میں 20 افراد وہ ہیں جو ان چھاپوں میں زندہ بچے ہیں جبکہ باقی تیس افراد وہ ہیں جن کے رشتہ دار ان چھاپوں میں شہید  یا زخمی ہوئے ہیں۔

رپورٹ مدرسے پر پڑنے والے چھاپے کی رات کے لمحات سے شروع ہوتی ہے۔رپورٹر اینڈریو کویلٹی لکھتے ہیں کہ : اس رات سب سے پہلے آسمان پر ڈرون طیارے نظر آئے ،اس کےبعدایک بڑے طیارے کی نچلی پرواز نے سب کو چونکا دیا،کچھ لمحوں  بعد انگریزی اور پشتو بولنے والے  فوجی وردی میں ملبوس افراد محلے کی گلیوں میں پھیل گئے اور کچھ مدرسے کی جانب بڑھنے لگے۔جہاں 9سے 18 سال کی عمر کے 20 بچے  محو خواب تھے۔

مدرسے کے قریب رہنے والے ایک شخص  کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے انہوں نے گلی کی طرف کھلنےوالی  گھر کی کھڑکی سے آگ کا شعلہ دیکھا جس کے بعد ایک بڑا دھماکہ ہوا، ان لوگوں نے مدرسے کے دروازے کو بموں سے اڑایا اور مدرسے کے اندر داخل ہوئے۔ دھماکے سے تمام طلباء خوف کے مارے جاگ اٹھے ۔12 سالہ بلال  جس کے ساتھ کمرے میں 9 اور طلباء بھی تھے گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ اتنے میں ایک افغان اہلکار چیختا ہوا کمرے میں داخل ہو اور پشتو میں کہا کہ ” اٹھ جاو” ۔بندوق کی نوک ہر طالبعلم کے سر پر رکھ کر طلباء کو اٹھایا جاتا اور لائن میں کھڑا کیا جاتا۔ اتنے میں ایک اور اہلکار اندر آیا اور ان بچوں میں سے دو نسبتا بڑی عمر کے بچوں کو باہر نکال لیا اور دوسرے بچوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آج کے بعد اگر کسی کو بھی اس مدرسے میں دیکھا تو زندہ نہیں بچے گا۔

کچھ بچے رو رہے تھے اور کچھ بالکل بات نہیں کر سکتے تھے۔ کچھ بچوں نے موت کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ  کر کلمہ شہادت کا ورد شروع کیا۔کچھ گھنٹوں کے بعد جب صبح ہوئی  اور سورج کی کرنیں مدرسے کے صحن کو روشن کر نے لگیں تو بلال اور دوسرے بچے ابھی تک سہمے ہوئے بیٹھے تھے، کچھ خوف کے مارے لرز رہے تھے۔ مدرسے کے دوسرے کمروں اور تہہ خانے میں 12 بچوں کی خون میں لت پت لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔

انٹرسیپٹ کے مطابق یہ 12 بچے ان لوگوں میں سے تھے جو میدان وردگ میں اس سے قبل دس چھاپوں میں شہید ہوئے تھے اور ان چھاپوں کی میڈیا پر کوئی بازگشت سنائی نہیں دی تھی۔

خوف پھیلانے کی مہم :

ماہ دسمبر 2018ء میں  افغان آرمی جو زیرو۔ون بریگیڈ کے نام سے C.I.A کے خصوصی تربیت یافتہ تھے ،نے امریکی  میرین فوج کے اہلکاروں کے ساتھ عوام میں خوف پھیلانے کی مہم کا آغاز کیا۔

رپورٹ کے مطابق دس چھاپوں کے دوران کم سے کم 51 شہری شہید ہوئے ۔اکثر چھاپوں میں بچے بھی نشانہ بنے یہاں تک کہ 8 سالہ بچوں کو بھی بڑی بے دردی سے نشانہ بنایا گیا۔ میدان وردگ کے  نرخ، چک، سید آباد اور دائی میرداد اضلاع کے باسیوں کا کہنا تھا کہ اس عرصے میں قتلِ عام،اغوا نما گرفتاریاں،لوگوں کے گھروں پر بمباریاں، سکولوں اور طبی مراکز پر حملے بڑھ گئے۔ لوگوں کے مطابق چھاپوں میں زیادہ تر نشانہ بننے والے عام شہری ہوتے تھے۔ بہت کم مرتبہ ایسا ہوا کہ طالبان بھی ان کے چھاپوں میں شہید ہوئے ہوں۔ کیوں کہ طالبان ہمیشہ چھاپہ مار فوجیوں پر جوابی کارروائی کرتے تھے۔ جس سے وہ خوف میں ہوتے تھے اس لیے عام شہری زیادہ نشانہ بنتے تھے۔ لیکن اس کے باوجودامریکی حکومت اور نہ کٹھ پتلی افغان حکومت نے اس وحشی فورس سے ان جرائم میں کے بارے میں پوچھ گچ کی ہے۔

اس وحشی ملیشیاء کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ این۔ ڈی ۔ ایس کے تحت کام کرتا ہے۔ 01 [زیرو۔ون] بریگیڈمیدان وردگ اور لوگر سمیت ملک کے مرکزی صوبوں میں آپریشن کرتی ہے۔ 02 [زیرو۔ٹو] بریگیڈ جس کا مرکز جلال آباد میں ہے ملک کے مشرقی صوبوں کے آپریشنز کی ذمہ دار ہے۔03[زیرو۔تھری]بریگیڈ جنوب یعنی قندہار جبکہ 04 [زیرو۔فور]کنڑ اور اس سے ملحقہ صوبوں میں  آپریشنز کرتی ہیں۔جنوب مشرقی صوبوں میں دو اور ملیشیاز” خوست محافظ فورس” اور شاہین فورس بھی کام کر رہی ہیں۔شاہین فورس  2019ء میں تشکیل دی گئی۔ ان کے نام الگ ہیں لیکن کام مذکورہ بالاتمام ڈیتھ سکواڈز کا ایک ہی ہے۔

ان ملیشیازکے امریکی مشیران اپنے اصل ناموں کی بجائے اپنے لیے مستعار نام استعمال کرتے ہیں۔ وہ ان افغان ملیشیاز کی تربیت کے ساتھ ان کو اہداف کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔چھاپے سے قبل انہیں معلومات اور ہدایات دیتے ہیں اور چھاپوں میں بھی ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔ افغان اور امریکی فوجی رات کو طیاروں میں چھاپے کی جگہ پہنچائے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ چھاپے کے دوران مختلف جنگی طیارے بھی فضاء میں ان کی سیکیورٹی کے لیے محو پرواز ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق میدان وردگ میں ان ملیشیاز کے چھاپوں کا ہدف عام شہریوں کے گھر تھے۔مدارس   اور مساجد پر چھاپے عام تھے۔انٹرسیپٹ نے چار مدارس پر چھاپوں کی روداد بیان کی ہے۔ جس میں 33 طلباء شہید ہوئے تھے۔ 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میدان وردگ کے چھاپوں میں زیرو۔ون  فورس کی جانب سے شہید کیے گئے کم عمر طلباء کی شہادت سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ فورس نہ صرف یہ کہ اپنے دشمنوں کو نشانہ بناتی ہے  بلکہ ان لوگوں کو بھی بے دردی سے  تہہ تیغ کرتی ہے جن کا مستقبل میں ان کا دشمن بننے کا امکان ہو۔انسانی حقوق کی تنظیم کے ایشیاء کی ایک عہدیدارپاٹریشیاگریسمین جو 1990ء سے افغانستان میں تعینات رہی ہیں، نے کہا ہے کہ زیرو۔ون  نامی فورسز مدرسے کے طلباء کو شاید اس لیے نشانہ بنارہے ہیں کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ طالبان مدرسوں کے طلباء کو جلد اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں۔اس وجہ سے مدرسے کے طلباء ان کو مجرم نظر آتےہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2019ء کے بعدبہت سے وردگ خاندانوں نے اپنے بچوں کو مدرسہ بھیجنا چھوڑدیا ہے۔جبکہ کئی خاندان یہاں سے نقل مکانی بھی کر چکے ہیں۔

 مستقل طور پر C.I.A کے ماتحت:

2019ء کے موسم خزاں کے دوران انٹرسیپٹ نے میدان وردگ کے عمر خیل میں واقع مدرسے کی رپورٹ این ۔ڈی۔ایس کے مشیر حمد اللہ محب کے ساتھ شئیر کی تو محب نے کہا: سچی بات یہ ہے کہ اس قسم کے واقعات سن کر مجھے دکھ ہوتا ہے۔لیکن افسوس کہ اس قسم کے واقعات کی رپورٹ میرے میز تک نہیں پہنچی۔جس طرح آپ کے علم میں ہے۔ زیرو۔ون فورس C.I.A کے ساتھ مشترکہ آپریشنز میں شریک ہوتی ہے۔محب کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ مجھے پوری طرح علم نہیں کہ یہ دونوں کس طرح آپریشنز کرتے ہیں ۔اس بارے میں ہم نے ان سے وضاحت طلب کی ہے کہ ان آپریشنز میں کون شریک ہوتے ہیں، کس کی جانب سے تشکیل پاتے ہیں۔ کب یہ ملیشیاء بنائی گئی اور کیوں افغانوں کے کنٹرول میں ہیں؟

محب نے وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان سوالوں کے جواب کے لیے ایک رپورٹ کے انتظار میں ہیں لیکن معلوم نہیں کہ وہ رپورٹ ابھی تک ان کے پاس پہنچی یا نہیں۔ستمبر میں محب کے ترجمان نے انٹرسیپٹ سے کہا تھا کہ ” معذرت چاہتاہوں میرے پاس آپ کے سوالوں کے جواب اب بھی نہیں ہیں۔”

گزشتہ سال ایک اور انٹرویو میں حمد اللہ محب نے انٹرسیپٹ کو بتایا تھا کہ” یہ ملیشیاز طالبان کو کمزور کرنے کے لیے حکومتی پالیسی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔کیوں کہ جس طرح ہم ان کے خلاف آپریشنز کرتے ہیں۔میں اس کا مخالف ہوں ہمیں اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔ہم مجبور ہیں کہ اس بات پر غور کریں کہ لوگ کیوں ہمارے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہمیں دوسرے راستوں سے ان لوگوں کو جنگ سے نکالنا ہوگا۔”

امریکا اور این۔ڈی۔ایس کے دوسرے عہدیداروں نے اس بارے میں کچھ کہنے سے انکار کیا ہے۔ C.I.A نے چھاپوں کے ایک تفصیلی فہرست اور رپورٹ سے متعلق سوالوں کے جوابات دینے سے انکار کیا ہے۔اس کے ساتھ افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان نے بھی اس موضوع پر بات چیت سے انکار کیا ہے۔

چھاپوں کی کثرت ٹرمپ  اسٹریٹیجی:

رپورٹ کے مطابق جنگی جرائم  ہونے  کے باوجود زیرو۔ون کی جانب سے کیے جانے والے وحشیانہ آپریشنز کی  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حمایت کرتا رہا۔2019ء میں ٹرمپ نے افغان شہریوں کے قتل عام میں ملوث فوجیوں کو معاف کردیا۔ امریکی فوج پر بارودی سرنگیں استعمال نہ کرنے کی پابندی اٹھالی اور اس کے ساتھ ہی انٹرنیشنل کریمینل کورٹ پر بھی پابندی لگادی کہ وہ افغانستان میں امریکی فوج کے جنگی جرائم کے بارے میں تحقیقات نہیں کرسکتی۔

2017ء میں اپنے دورۂ صدارت کے آغاز  کے بعد اپنے سیکوا اور اس وقت کے امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کو حکم دیاکہ انتخابات میں افغانستان سے انخلاء کا وعدہ پورا کرنے کے لیے افغانستان سے فوجی انخلاء کےلیے نئی اسٹرٹیجی بنائے۔ افغانستان سے انخلاء کا ٹرمپ کا منصوبہ یہ تھا کہ افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد کم کرکے طالبان پر سیاسی دباو ڈال کر ان کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کریں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ٹرمپ نے امریکی فوج پر وہ پالیسیاں نرم کرلیں جو 2007ء کے بعد شہریوں کے نقصانات کم کرنے کے لیے ان پر لگائی گئی تھیں۔ اس کے ساتھ فوجی کمانڈروں کو مزید اختیارات بھی دیے اور مزید 3 ہزار فوجی افغانستان بھیجے۔

2017ء میں جب مائیک پامپیو سی۔آئی۔اے کے سربراہ تھے تو انہوں نے کہا  کہ : سی۔آئی ۔اے  کو آپریشنز سے تھکنا  نہیں چاہیے،انہیں اقدامی کارروائی کرنی ہوگی” پامپیو نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ یہ پالیسی کس کے خلاف استعمال کی جائے گی۔لیکن کچھ دنوں بعد رپورٹس آئیں کہ سی۔آئی ۔اے نے افغانستان میں کارروائیاں بڑھادی ہیں اور اب این۔ڈی۔ ایس اور امریکی میرینز کے ساتھ  ان ٹارگٹس کو نشانہ بنارہی ہیں جس کی  پہلے انہیں اجازت نہیں تھی۔

ٹرمپ کی پالیسی کا ڈپلومیٹک پہلو اس وقت سامنے آیا جب اس کی صدارت کے ایک سال بعد امریکا نے افغان حکومت کو سائیڈ لائن کرتے ہوئےطالبان سے مذاکرات کا آغاز کیا۔ 2019ء ماہ ستمبر میں افغان مذاکرات کے لیے امریکی خصوصی نمائندے زلمی خلیل زاد نے کہا کہ طالبان کے ساتھ کئی نکات پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔لیکن ٹرمپ نے 9 ستمبر کو ایک امریکی فوجی کی ہلاکت پر مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کیا۔ دوحہ مذاکرات ماہ دسمبر میں دوبارہ شروع ہوئے۔29فروری 2020 ء ایک ہفتے کی جنگ بندی کے بعدطالبان اور امریکا کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوئے۔ دونوں فریق  کواس بات کا یقین ہے کہ یہ معاہدہ افغانستان میں قیام امن کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

معاہدے کے بعد C.I.A کے ملیشیاز لاپتہ:

انٹرسیپٹ کہتا ہے کہ انہوں نے اپنی رپورٹ طالبان اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے پہلے مرحلے اور 2020 ء کے اوائل میں ترتیب دی ہے۔ زیرو۔ون بریگیڈ کے نائٹ آپریشنزاور اس کے نتیجے میں شہریوں کے جانی نقصانات میں گزشتہ موسم سرما میں ڈرامائی انداز میں کمی آئی  اور پھر مارچ اور اپریل تک تقریبا مکمل طور پر ختم ہوئی۔

C.I.A اور نیٹو کے فوجی ترجمانوں نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کیا ہےکہ ان ملیشیاز کے آپریشنز میں کمی دوحہ معاہدے کے بعد کیوں آئی؟

انٹرسیپٹ نے لکھا ہے کہ دوحہ معاہدے کے بعد یہ نام نہاد ملیشیاز بالکل منظر سے غائب ہوگئے ہیں۔ایک سیکورٹی مبصر نے انٹر سیپٹ کو بتایا کہ اگر مئی میں اس ملیشیاء کی جانب سے ایک آپریشن نہ ہوتا توہم یہی سمجھتے کہ ان ملیشیاز کو شاید زمین نگل گئی ہے۔

C.I.Aکے عہدیدار اور وہ ملیشیاز جو ان کے مشوروں پر چلتے ہیں ان کے مستقبل کے بارے میں طالبان کے ساتھ امریکی معاہدے میں  بحث ہوئی ہے۔لیکن اس کے بارے میں تفصیلات عام نہیں کی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق طالبان نے افغانستان میں C.I.A کی موجودگی کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن یہ معلوم نہیں کہ یہ موضوع امریکا طالبان معاہدے کے ان ضمیمہ جات میں شامل ہے یا نہیں جس کو صرف طالبان ارکان اور کانگریس کے کچھ ارکان نے دیکھا ہے۔ ٹرمپ حکومت کے کچھ ارکان یہ چاہتے تھے کہ  فوجی انخلاء کے بعد افغانستان میں C.I.A کی موجودگی بڑھائی جائے گی جس کی طالبان نے سخت مخالفت کی۔ 

Watson Institute for International and Public Affairs نامی ایک ادارے  نے 2019 ء میں اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی فوجیوں کے انخلا کے باوجود C.I.A اپنے تربیت یافتہ اور ماتحت ملیشاز کی آپریشنز کی سربراہی اپنے ہاتھ میں برقرار رکھیں گے۔ کیوں کہ اگر ان ملیشیاز کو C.I.A کی جانب سے ملنے والی بڑی تنخواہیں بند ہوتی ہیں تو ممکن ہے کہ یہ ملیشیاز ایک خصوصی فوجی دستوں کی شکل میں نظر آئیں جو ملک کے طاقتور افراد کے لیے کام کریں گے۔

2014ء میں کابل اور امریکا کے درمیان ہونے والے سیکورٹی معاہدے  کے مطابق” افغان حکومت کی تائید کے بغیر امریکا افغانستان میں کسی آپریشن کا اختیار نہیں رکھتا” لیکن اس کے باوجود یہ ملیشیاز کابل  انتظامیہ  کے کنٹرول سے باہرکام کرتے ہیں۔اس معاہدے کے پچاسویں  مادے  میں ہے کہ “امریکا سے باہراگر امریکی حکومت کا کردار مخفی رکھنا مقصود ہوتو امریکی حکومت سیاسی، معاشی اور فوجی  لحاظ سے غلبہ پانے کے لیے خفیہ آپریشنز کی اجازت رکھتی ہے۔ اور اس کی اجازت صرف امریکی صدر دے سکتا ہے۔

گوسمین نے انٹرسیپٹ کو بتایا” جوامریکی بھی ان ملیشیاز کی رہنمائی کرتا ہے یا ان کے ساتھ شامل ہوتا ہے وہ اسی پچاسویں مادے کے تحت آتا ہے۔

اگرچہ ان قطعات کی تشکیل کا اعلان عام طور پر نہیں کیا گیا لیکن شاید یہ ملیشیاز وہی ہیں جن کی طرف پامپیو نے 2017ء میں اشارہ کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ملیشیاز ہمارے ساتھ معلومات شریک کرنے ، ایک ساتھ آپریشنز کرنے اور ہمارے اہداف تک پہنچنے میں ہماری ہمرکاب ہیں۔

گزشتہ سال C.I.A نے HRW کے اس رپورٹ پر جس میں ان ملیشیاز کے جنگی جرائم سے پردہ اٹھایا گیا تھا ردِعمل دیتے ہوئے کہا تھا ” افغان ملیشیاز کے خلاف ہونے والے دعوے سب نہیں تو اکثر غلط  اور جھوٹ پر مبنی ہیں “

آپریشنز کے روک تھام کے دعوے:

گزشتہ سال ستمبر میں ان ملیشیاز کی جانب سے مشرقی صوبوں میں 14 شہریوں کی شہادت کے بعد اشرف غنی سخت دباو کا شکار ہوگئے۔ اس وقت کے این۔ڈی۔ایس سربراہ معصوم ستانکزئی نے استعفی دیا اور ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ” موجودہ چھاپہ سابقہ چھاپوں پر پابندی اور ان کے طریقہ کار میں تبدیلی کے  باوجود ڈالا گیا ہے۔انہوں نے لکھا تھا کہ سپریم کورٹ اس واقعے کی تحقیق کرے اور مجرمین کو کٹہرے میں لائے۔سپریم کورٹ کے ایک جج نے کہا کہ :ہماری رپورٹ مکمل ہوگئی ہےاور ہم نے اسے اشرف غنی کو بھیج دیاہے۔رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اس پر مزید کام کرنے کے لیے این۔ڈی۔ایس کی معاونت کی ضرورت ہے۔ یہ رپورٹ ابھی تک منظر عام پر نہیں لائی گئی اور ابھی تک صدارتی محل کے کسی عہدیدار نے اس بارے میں انٹر سیپٹ کو جواب نہیں دیا۔

ستمبر  2019ء  کو محب اللہ محب نے انٹرسیپٹ کو بتایا” جب تک حکومت معاملے کی تہہ تک نہیں پہنچتی تب تک ننگرہار میں مذکورہ ملیشیاء کو آپریشنز سے روک دیا گیاہے۔اس جنگجو ملیشیا کے ایک فعال رکن  نے انٹر سیپٹ کو بتایا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی ملیشیا قانونی حیثیت اختیار کر جائے گی۔لیکن ایک دوسرے رکن نے بتایا کہ ان کی ملیشیاکو بالکل ہی آپریشنز سے نہیں روکا گیا ہے اور نہ ہمارے آپریشنز کرنے کی شرح میں کمی  آئی ہے۔

معصوم ستانکزئی استعفی کے بعد کابل کے مذاکراتی ٹیم کے سربراہ مقرر ہوئے۔ انہوں نے انٹرسیپٹ کو انٹرویو دینے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن جب ان بے مہار ملیشیاز کا ذکر چھڑگیا تو ان کے ترجمان نے انٹرسیپٹ کے فون کال اٹینڈ کرنے بند کردیے۔ این۔ڈی۔ایس کے دوسرے ترجمانوں کی بھی یہی کہانی تھی۔ وزارت داخلہ اور خارجہ کے وزیروں اور مشیروں نے بھی اس موضوع پر کچھ کہنے سے معذرت کی ہے۔

کابل سے شائع ہونے اخبارافغانستان ٹائمز نے ستمبر کے شمارے میں خبر دی کہ لوگر کے قبائلی عمائدین نے اشرف غنی کے ساتھ ملاقات میں اس صوبے میں چھاپوں کی کمی اور شہریوں کے نقصانات کم کرنے کے لیے نئی پالیسی اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جس کی اشرف غنی نے تائید کی تھی۔

این۔ڈی۔ایس کے مشیر حمد اللہ محب نے انٹرسیپٹ کو بتایا کہ ” میدان وردگ  دہشت گردوں کا گڑھ ہے،اس لیے صفر۔یک کے آپریشنزمکمل طور پر بند نہیں کرسکتے لیکن انہیں احتیاط اور کئی اور تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

عام ملیشیاز  اور C.I.A کے جنگجو ملیشیاز میں فرق:

انٹر سیپٹ کا کہنا ہے کہ زیرو۔ ون  اور زیرو۔ٹو ملیشیاز کی طرح ضربتی  نام کی ملیشیاز دوسرے افغان جنگجوگروہوں سے مختلف ہیں  جو  افغان آرمی، پولیس یا این۔ڈی۔ایس کے ماتحت ہوں۔ان کی بھرتی کا طریقہ،کام کی نوعیت،فوجی تربیت ،  انٹیلی جنس معلومات حاصل کرنے  اور آپریشن کی منصوبہ بندی سب دوسروں سے الگ ہے۔

بھرتی ہونے والے افرادکے ماضی کی کارکردگی جانچنے کےلیے پورے 6 ماہ لگتے ہیں۔ان ملیشیاز کو دی جانے والی تنخواہ عام افغان فوجی اور پولیس سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ اس ملیشیا کے جنگجووں کو ہرماہ 600 سے 1800 ڈالرز تک کی تنخواہ دی جاتی ہے۔ یہ تنخواہ بینک کے ذریعے نہیں بلکہ ہر اہلکار کو ہاتھ میں تھمادی جاتی ہے۔ اس لیے افغان انتظامیہ کو اس کی خبر تک نہیں ہوتی کہ وہ کتنی تنخواہ لیتے ہیں۔انٹرسیپٹ کو کئی افغان اہلکاروں نے بتایا کہ ہماری فوج کے ایک  فرد کی تنخواہ  210 سے 235 ڈالرز تک ہے۔اور ان کی تنخواہیں ان کے بینک اکاونٹس میں جمع ہوتی ہیں۔

جنگجو ملیشیا کی تربیت امریکی فوج کے اعلیٰ عہدیدار کرتے ہیں۔ان کی تربیت تمام افغان سیکورٹی فورسز سے کئی گنا سخت ہوتی ہے۔ اس ملیشیا کے ارکان کہتے ہیں کہ اگرچہ اطلاعات  پہنچانے کے لیے ہماری ملیشیا کے افراد ہی منتخب ہوتے ہیں لیکن اہداف کا تعین اکثر C.I.A کرتی ہے۔

ان ملیشیاز کے آپریشنز کی منصوبہ بندی امریکی اہلکار کرتے ہیں۔زیرو۔ ٹو نامی جنگجو ملیشیا کے ایک رکن نے کہا کہ امریکی ان اہداف کے بارے میں مکمل طور پر معلومات اکھٹی کرتے ہیں ۔ہدف کی تصویر بناتے ہیں  اور پھر ان سے منسلک  چھاپہ مار جنگجووں کے سامنے ان کے” جرائم ” بیان کیے جاتے ہیں تاکہ انہیں آپریشن کے لیے ذہنی طور پر بھی تیار کرسکیں۔

ملیشیا کے کچھ موجودہ اور سابقہ ارکان نے کہا ہے کہ امریکی  ہمیشہ اپنے افغان جنگجووں سے آپریشن کے بارے میں بات چیت کرتے ہیں۔زیرو۔ ٹو کے امریکی سربراہان عوامی لباس  میں جلال آباد کے ہوائی اڈے میں امریکی فوج کے ایک خصوصی کیمپ ڈائیر کے بیرکوں سے ان جنگجووں کے آپریشن کو کنٹرول کرتے ہیں۔ آپریشن کے لیے جاتے ہوئے یہ امریکی پھر امریکی میرین کی سبز کیموفلاج وردیاں پہنتے ہیں۔ لیکن کچھ افغانستان میں تیار کی گئی وردی بھی پہنتے ہیں۔

زیرو۔ ٹو کےایک موجودہ رکن کا کہنا ہے کہ ہمارے آپریشن کی خبر نہ صوبائی حکومت کو ہوتی ہے اور نہ علاقے میں موجود دیگر سیکورٹی  اداروں کو ۔کیوں کہ حکومت میں کچھ لوگوں سے اطلاعات کے افشا ہونے کا خطرہ ہوتاہے۔

2018ء کے اواخر سے لے کر اب تک زیرو۔ون کے تمام اہلکار آپریشن کی جگہ تک امریکی CH-47 چینوک ہیلی کاپٹر میں پہنچائے جاتے۔ان کےساتھ ڈرون، جیٹ اور دوسرے جنگی طیارے فضاء میں پرواز کر رہے ہوتےہیں۔

چھاپوں کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ عموما جہاں چھاپہ پڑتا وہاں امریکی طیارے رات کے دس بجے ان اہلکاروں کو اپنے ہدف کے قریب  اتاردیتے۔اس کے بعد دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں بڑی دیر تک سنائی دیتی تھیں۔کبھی کبھار ہم ان اہلکاروں کی آوازیں سنتے تھے اور کبھی ان کا نشانہ بننے والے افراد کی چیخیں۔ چینوک صبح کے 4 بجے کے قریب واپس آجاتے اور پیادہ اہلکاروں کو بٹھاکر علاقے سے چلے جاتے۔طلوع آفتاب کے وقت علاقے کے لوگ گھروں سے نکلتے اور دیکھتے کہ کس کے گھر صف ماتم بچھ گئی ہے۔ اور کتنے لوگ لقمہ اجل بنے ہیں۔

آپریشن کی ذمہ داری C.I.A کے افسران کی ہوتی ہے۔ آپریشن کے دوران فضائی  اور زمینی  حفاظت کی ذمہ داری ان امریکی فوجیوں کی ہوتی ہے جو امریکی سنٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول ایجنسی کی جانب سے دیے جاتے ہیں ۔ ان امریکی فوجیوں کے بارے میں معلومات چھاپہ مار افغان جنگجووں کے ساتھ شریک نہیں کی جاتی ۔ جب ایک مرتبہ زیرو۔ٹو کے ایک رکن نے پوچھنے کی جسارت کی کہ آپ امریکی فوج کے کس ڈپارٹمنٹ سے ہو تو جواب دیا کہ ” ہم افغان حکومت کے لیے کام کرتے ہیں۔”

   زیرو۔ٹو کے ایک اور رکن نے انٹرسیپٹ کو بتایا کہ ہماری ملیشیاء کے اطلاعاتی افسروں کو سیٹیلائٹ نقشوں اور بہ ظاہرغیر مضر نظر آنے والے ایسےجدید موبائل ایپلی کیشن دیے گئے ہیں جس کی مدد سے وہ ڈیٹا تک آسانی سے رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ اسی ملیشیا کے ایک اور سابق رکن کا کہنا ہے کہ: آپریشن کے دوران ہر 7 سے 10 افغان اہلکاروں کے ساتھ ایک امریکی فوجی ضرور ہوتا ہے۔ ہر امریکی فوجی کے ساتھ ایک افغان ترجمان ہوتاہے۔ جنگجو ملیشیاء کے ایک اور افسر  نے بتایا جب ہم آپریشن کے لیے زمین پر اترتے ہیں تو جس طرح امریکی ہمیں حکم دیتے ہیں ہم وہی کرتے ہیں۔ ہمیں مخالفت کی اجازت  اور اختیار نہیں۔ہم فیصلہ کرنے والے نہیں بلکہ ان فیصلوں پر عمل کرنے والے ہیں جو امریکی بناتے ہیں۔

عمرخیل چھاپے کے متاثرین:

15 دسمبر 2018ء ہفتے کی  صبح طلوع آفتاب سے قبل درجنوں طلباء نے اپنے مدرسے کی راہ لی جہاں انہوں نے پانچ دن قیام کرنا تھا  اور پھر جمعرات کو گھر جاتے  تھے۔

جمشید اور اسد خان دو میل کا فاصلہ طے کرکے مدرسے پہنچتے۔یہ سفر عموما ایک گھنٹے میں طے ہوتا تھا۔دونوں بھائی چارسال سے  عمرخیل گاوں کے مدرسے میں زیر تعلیم تھے۔تیرہ سالہ جمشید اب قاری بن چکا تھا۔جبکہ ان کا سترہ سالہ بھائی درجہ کتب میں زیر تعلیم تھا۔دونوں بھائی پڑھائی کے بعدمدرسے کے دوسرے بچوں کے ساتھ اکثر اوقات میں کرکٹ کھیلتے تھے۔ دونوں کے جوتے دور تک سفر کرنے کی وجہ سے پھٹ چکے تھے اس لیے اس مرتبہ مدرسہ آنے سے قبل والد صاحب سے کابل سے نئے جوتے لانے کی فرمائش بھی کی تھی ۔ ان کے والد پاکستان سے سامان لاتے ہیں اور کابل میں دکانداروں کو بیچ کر اپنا روزگار کماتے ہیں۔       والد صاحب نے اس مرتبہ دونوں کے لیے نئے جوتے لانے کا وعدہ کیا۔

ضلع نرخ کے دوسرے علاقوں سے بھی طلباء پہنچنے لگے۔ 12 سالہ مالک عرفان اپنی سائیکل پر توکڑک سےآیا، 12 سالہ صافی اپنے چچازاد بھائی جلال کے ساتھ پیرداد سے ایک ٹیکسی میں اپنے بستر سمیت پہنچ گیا، 12 سالہ کامران سلیمان خوڑ سے کھیتوں میں ایک گھنٹہ سفر کرنے کے بعد مدرسے کے دروازے پر پہنچا،ارمان اور رفیع دونوں بھائی 12 سال اور 9 سال مدرسے کے قریبی گلی سے  مدرسے پہنچ گئے تھے۔ جس وقت طلباء مدرسے میں اپنے استاد مولوی صادق کے سامنے بیٹھ گئے اس وقت تک سورج طلوع نہیں ہوا تھا۔

تین دن کے بعد 18 دسمبر منگل کی رات جب قریبی علاقوں کے اساتذہ اور طلباء نے گھروں کی راہ لی اور مدرسے میں صرف 25 سے 30 طلباء رہ گئے۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد10 بجے کے قریب سب اپنے کمروں اور تہہ خانے میں سوگئے۔

شام 6 بجے مرتضی  نامی  ایک دکاندار نے مکھی کی بھنبھناہٹ کی  طرح ڈرون کی آوازسنی تو سمجھ گئے کہ آج رات چھاپہ پڑنے ولا ہے۔مرتضی  مدرسے پر پڑنے والے چھاپے کی رات کو اپنے گھر میں تھا۔ 

رات کے 3 بج کر 10 منٹ پر محمد غفار،جس کا گھر مدرسے کی سڑک پر بالکل سامنے ہے نے کچھ طیاروں کی آواز سنی جو فضاء میں مسلسل پرواز کر رہے تھے۔طیارے کو دیکھ کر سمجھ گئے کہ چھاپے کے لیے پیادہ سپاہیوں کو زمین پر اتاردیا گیا ہے۔ایک اور عینی شاہد نے کہا کہ طیارے اتنی نچلی پرواز کر رہے تھے جس کی آواز  سے میرے گھر کی کھڑکیا ں لرز رہی تھیں۔ غفار  نےاس کھڑکی سے مدرسے کی طرف جھانکا جو مدرسے کی طرف کھلی ہوئی تھی۔  کچھ لمحے بعدبکتر بند گاڑیوں کا  ایک قافلہ گاوں میں داخل ہوا۔کچھ لوگ غفار کی کھڑکے ساتھ ہی گزرگئے جو انگریزی اور پشتو بول رہے تھے ۔جس سے پتہ چلا کہ چھاپے میں امریکیوں کے ساتھ افغان اہلکار بھی ہیں۔

گاڑیوں کی یہ قطار آہستہ آہستہ آگے بڑھتی رہیں۔ علاقے کا جائزہ لیا اور بعد میں مدرسے کا رخ کیا۔درجنوں فوجی پیدل مدرسے کی جانب جانے لگے،کچھ لمحےبعد آگ کا شعلہ بلند ہوا اور پھرایک دھماکے کی آواز سنائی دی ۔ یہ اس دھماکے کی آواز تھی جس کے ذریعے امریکی وحشیوں نے مدرسے کا دروازہ بم سے اڑایا تھا۔ غفار کھڑکی سے ہٹ کر کمرے کی جانب بڑھا۔

اس وقت تک محلے میں اندھیرا چھایا ہوا تھا۔لیکن عمرخیل گاوں کا ہر فرد جاگ چکاتھا۔ ایک پھل فروش سے جب انٹر سیپٹ نے پوچھا تو اس نے بتایا کہ چھاپے کی رات بہت وحشت پھیل گئی تھی۔  میری دو چھوٹی بہنیں ڈر گئیں۔  ہم بہنوں کو خوف سے نکالنے کی کوشش کرتے رہے ،بہنیں کبھی میری گود میں ،کبھی میری والدہ کی گود میں اور کبھی میرے والد کے گود میں جاتی تھیں۔محلے کے تمام لوگ سہمے ہوئے تھے کیوں کہ میدان وردگ میں زیرو۔ون کی جانب سے عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے قصے عام تھے۔ 

مدرسے کے ایک کمرے میں 12 سالہ بلال دوسرے بچوں کی طرح خوفزدہ بیٹھا ہوا تھا ۔  دو افغان اہلکار اندر داخل ہوئے  اور اس کمرے سے دوبچوں کو جو باقی بچوں سے عمر میں بڑے تھے باہر نکال لیا۔ بلال کا کہنا ہے کہ کمرے کے باہر ہم امریکی فوجیوں کی گفتگو سن رہے تھے ۔وہ باہر کھڑے تھے  جبکہ اندر اپنے غلاموں کو بھیج دیا۔

مولوی صادق مدرسے کے ان چار اساتذہ میں سے  ایک ہیں ۔انہوں نے سات سال قبل عمر خیل مدرسے میں قرآن پاک کی تدریس کا  آغاز کیا۔اس وقت طالبان کا اثر ورسوخ اس محلے میں کم تھا لیکن دو سال بعد یہ گاوں مکمل طور پر طالبان کے کنٹرول میں آگیا۔

مولوی صادق اور ان کا خاندان بھی اس رات سو نہیں سکے۔ان کا گھر مدرسے سے تقریبا آدھے میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ان کے والد نے انہیں ہدایت کی تھی کہ باہر نہیں جانا وہ تمہیں بھی قتل کردیں گے۔

مولوی صادق  کہتے ہیں : طلوع آفتاب سے قبل تمام آوازیں خاموش ہوگئیں، صبح کی نماز کے بعدروشنی پھیلنے کے بعد میں اپنے بھائیوں سمیت گھر سے نکلا اور مدرسے کی راہ لی کیوں کہ پورے محلے میں خبر پھیل گئی تھی کہ مدرسے پر چھاپہ پڑا ہے۔

مولوی صادق کے مطابق : جب میں نے مدرسے کے طلباء کی دردناک حالت دیکھی تومیں بے ہوش ہوگیا تھا۔” صادق جب اس لمحے کےبارے میں بات کررہا تھا تو اس نے اپنے چہرے کو ہاتھوں سے چھپایا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا”  کہنے لگے جب بھی وہ حالت میرے تصور میں آتی ہے تو بے قرار ہوجاتا ہوں۔

مدرسے کے پچاس سالہ ہمسایہ عبداللہ بھی  اپنے گھر میں موجود تھے۔ کہتے ہیں” کہ سب سے پہلے جب ہم نے مدرسے کے دروازے کھولے تو زندہ بچ جانے والے بچے خوف کے مارے چل نہیں سکتے تھے ،بول نہیں سکتے۔ صرف ہمیں حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔

لوگوں نے بچوں کو باہر نکالنے کی کوشش کی تا کہ بچے وحشت کا وہ منظر نہ دیکھے  جہاں دوسرے کمروں میں ان کے ساتھی خون میں لت پت پڑے تھے۔ ایک 8 سالہ بچے نے روتے ہوئے کہا کہ ” وہ واپس آکر ہمیں بھی قتل کردیں گے”  اس کے بعد زندہ بچ جانے والے بچوں کو گھروں تک پہنچانے کے لیے گاڑیوں کا بندوبست کیا گیا۔

جب  دو 7 اور 8 سالہ بچے گھر پہنچے تو ان کے بڑے بھائی زین اللہ  نے ان کے چہروں پر خوف اور گھبراہٹ کےآثار دیکھے۔ وہ کہتے ہیں کہ” میرے بھائی دو تین دن تک بالکل بات نہیں کرسکتے تھے، جب بات کرنے لگے تو بتایا کہ امریکی اور افغان اہلکاروں نے کمروں سے بڑی عمر کے طلباء کو باہر نکالا،دیوار کے ساتھ کھڑا کرکے ہمارے سامنے انہیں گولیاں ماریں” دونوں بھائیوں نے کہا کہ انہیں صرف اس وجہ سے چھوڑدیا گیا کیوں کہ وہ بچے تھے۔ رش بڑھنے سے پہلے ایک ایک کرکے  لاشیں  مدرسے سے نکال کر لے جائی جاچکی تھیں۔ اسد خان اور جمشید خان جن کے ساتھ ان کے والد نے نئے جوتے لانے کا وعدہ کیا تھا بھی شہداء میں شامل تھے۔

ان کے والد محمود  اس وقت کابل میں تھے ،جب بچوں کی والدہ نے فون  کیا تو صرف یہ بتایا کہ وہ جلدی سے گھر پہنچ جائے۔ واقعے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔کابل سے نکلنے کے بعد محمود ایک بازار میں رکا اور وعدے کے مطابق اپنے بچوں کے لیے دو جوڑے نئے جوتے بھی خریدے۔ دوپہر کو گھر پہنچے  تو بچوں کی لاشیں گھر پہنچے ابھی کچھ دیر ہی ہوئی تھی۔ بچوں  کی لاشیں دیکھنے کا منظر بیان کرتے ہوئے  محمود نے کہا ” اللہ ان سب کو تباہ کرے”  ۔تمام شہداء کو غسل دیے بغیر دفنا دیا گیا۔

مدرسے میں شہید ہونے والے طلباء میں سے ایک کے بھائی نے امریکا سے انتقام لینے کا عہد کیا۔اس  نے انٹرسیپٹ کو بتایا” ہم توان کے ملک میں نہیں ہیں،وہ ہمارے ملک میں ہم پر ہی حملہ آور ہیں۔میں اپنے بھائی سمیت تمام شہید طلباء کا انتقام امریکا سے ضرور لوں گا۔جب ان بچوں کے استاد مولوی صادق مدرسہ میں دوبارہ ہوش میں آئے تو اپنے آپکو گھر میں پایا۔ان کی دماغی حالت اتنی خراب تھی کہ ان کے والد نے انہیں بچوں  کے نماز جنازہ میں شرکت کی اجازت نہیں دی۔

مولوی صادق دوسرے دن مدرسے گیا تو دیکھا کہ  ہر طرف بچوں کے جوتے  اور کتابیں بکھری پڑی ہیں، مدرسے کے صحن اور تہہ خانے کی دیواروں پر گولیوں کے نشان تھے۔ جب کہ ہر طرف خون بکھرا ہوا تھا۔

جب مولوی صادق سے پوچھا گیا کہ کیا  ان  بچوں کا  طالبان کے ساتھ کوئی تعلق   تھا  تو مولوی صادق نے جواب دیا کہ” نہیں ایسی کوئی بات نہیں، وہ معصوم بچے تھے میں انہیں اچھی طرح جانتا ہوں” ۔صادق نے چھاپے کے بعد مدرسے میں تدریس نہیں کی۔ 

آج کل اسد خان اور جمشید کا والد محمود  مایوسی میں گرا ہوا اور خود کو مجرم قرار دیتا ہے۔ وہ ہروقت  اپنے بچوں کا انتقام لینے کی فکر میں ہوتا ہے۔جب ان کے بچوں کی شہادت کا واقعہ ہوا تو اس پورے موسم سرما میں انہوں نے جوتے نہیں پہنے،کیوں کہ ان کے بچے نئے جوتوں کی خواہش قبر میں لے گئے تھے۔وہ انہیں سوچوں میں گم صم بیٹھا رہتا ہے۔ ایک دن گھر کے ساتھ والی ندی میں پانی کا بہاو تھوڑا زیادہ ہوا تو وہ دیکھتا رہا،  پانی کا رخ بدلنے کے کی ان میں قوت نہیں تھی یہاں تک کہ پانی نے ان کے گھر کی دیوار گرادی۔

اب جب محمود کہیں بھی افغان سیکورٹی اہلکاروں کو دیکھتا ہے تو اسلحہ لے کر ان پر حملہ کرتا ہے۔ کئی مرتبہ اس وجہ سے انہیں زدوکوب بھی کیا گیا۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ میں نے اپنے غصے کا زیادہ تر حصہ امریکیوں کے لیے محفوظ کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر میں  3 یا 4 امریکیوں کو موت کے گھاٹ اتاردوں تو میرا کلیجہ ٹھنڈا ہوگا۔

محمود کی اہلیہ مالکہ بی بی اپنے بچوں کی شہادت کے بعد ہر جمعرات کی شام اپنے بچوں کی وہ پگڑی جو وہ مدرسہ جانے کے لیے پہنتے تھے اٹھاکر تکیوں پر پھیلا دیتی ہے اور کہتی ہے کہ ابھی میرے بچے گھر آئیں گے ” ہر صبح اور شام کو وہ جوتے صاف کرتی ہے  جو ان کے والد بچوں کےلیے کابل سے لائے تھے۔

اړوند نور مطالب او مجلې

امن معاہدہ اور منسوخ کروانے کی سازشیں

Habibullah Helal

کمپاین ضد نظام اسلامی و مسئولیت علما

Habibullah Helal

په ملکي تأسیساتو کې سنګرونه د چا دي…!؟

Habibullah Helal